رات کی تہہ میں زمین نے جیسے اپنی پسلیاں توڑ دیں تھیں۔ زلزلہ آیا تو پہاڑوں کی سانس رک گئی، عمارتیں جھک کر مٹی ہو گئیں، اور بیگار کیمپ کی دیواریں یوں گریں جیسے برسوں کے ظلم نے خود اپنی قبر کھود لی ہو۔
اختر نے پہلی بار اس دن کو “رحمت”
سمجھا تھا۔
وہ جس کے لیے ملبہ صرف تباہی نہیں
تھا، ایک دروازہ تھا… آزادی کا۔
محافظ، جو کبھی اس کے بچپن کا سایا
چُرا کر اسے غلامی کے اندھیروں میں دھکیل لایا تھا، آج اسی ملبے کے نیچے دبا کراہ
رہا تھا۔ اس کی آواز میں حکم نہ تھا، صرف شکست تھی۔
اور اختر…
اس کے چہرے پر خوف نہیں تھا۔
ایک عجیب سی خاموش مسکراہٹ تھی، جیسے
برسوں کا قرض یکایک اُتر گیا ہو۔
پھر اس نے پہلا پتھر اٹھایا۔
ہاتھ لرزے نہیں۔
دوسرا، تیسرا… جیسے یادیں ملبہ بن کر
باہر آ رہی ہوں—مار، بھوک، زنجیر، زخم، اور ماں کی آواز جو ہر رات اس کی ہڈیوں میں
چراغ جلاتی تھی۔
وہ کراہتا ہوا محافظ نہیں دیکھ رہا
تھا… وہ اپنا بچپن دیکھ رہا تھا جو کسی نے اغوا کر لیا تھا۔
پتھر گرتے رہے۔
اور ماضی سانس چھوڑتا رہا۔
(2)
وہ دن اس کی زندگی کا پہلا دروازہ
تھا جس نے باہر کی طرف کھلنے کی اجازت دی۔
وہ بھاگا۔
زخموں سے چور، ٹوٹے ہوئے جسم کے
ساتھ، مگر اندر ایک عجیب سی ضد کے ساتھ جو موت سے زیادہ مضبوط تھی۔
پہاڑی راستے، سرد ہوا، اور
اندھیرا—سب اس کے خلاف تھے، مگر اس کے اندر ایک ہی خیال دھڑک رہا تھا:
گھر… ماں… گھر…
سڑک ملی تو یوں لگا جیسے زمین نے ترس
کھا لیا ہو۔
اور پھر وہ ٹرک…
ایک خاموش ڈھانچہ، جو شاید قسمت نے
اس کے لیے چھوڑ دیا تھا۔
وہ چڑھ گیا۔
رات نے چاند کو کھول دیا تھا۔
چودھویں کا چاند، جیسے آسمان پر کوئی بے خبر چراغ جل رہا ہو۔
مگر اختر کے لیے یہ روشنی نہیں تھی۔
صرف راستہ تھا۔
سردی بڑھی تو اس نے ایک بوسیدہ چادر ڈھونڈ
لی، اور اسے یوں سینے سے لگا لیا جیسے یہ کپڑا نہیں، ماں کی دعا ہو۔
اس کے زخم کھلے تھے، جسم سے خون اور
وقت دونوں رس رہے تھے۔
اور پھر نیند نے اسے جیت لیا۔
(3)
جب آنکھ کھلی تو ٹرک کہیں نہیں تھا۔
وہ ایک ویران جگہ پر تھا۔
خاموش زمین… اور خاموش آسمان۔
اب سفر جسم سے نہیں ہو رہا تھا، اب
بھوک سفر کر رہی تھی۔
وہ چلتا رہا۔
لوگوں سے روٹی مانگتا رہا۔
مگر آوازیں صرف اسے دیکھتی تھیں،
سمجھتی نہیں تھیں۔
پھر اسے کوڑے کا ڈرم ملا۔
کتے روٹی کے ٹکڑوں پر لڑ رہے تھے۔
وہ پہلی بار نہیں تھا جو گرا تھا…
مگر پہلی بار وہ خود اپنی عزت کے
ٹکڑوں پر جھپٹا تھا۔
(4)
راستے میں اسکول آیا۔
بچے ہنس رہے تھے، بھاگ رہے تھے،
گھروں کو لوٹ رہے تھے۔
اختر ٹھہر گیا۔
کچھ لمحوں کے لیے اس کا اندر بھی بچہ
بن گیا۔
وہ بچہ جو کبھی ماں کے ہاتھ سے اسکول
جاتا تھا، اور راستے میں خود کو کھو دیتا تھا۔
وہ بچہ جو غلطی نہیں تھا… مگر غلط
جگہ پر رکھ دیا گیا تھا۔
یادیں آئیں اور گزر گئیں۔
پھر اس نے قدم اٹھایا۔
اور زمین نے اسے ایک اور بار گرا
دیا۔
(5)
اب اس کی زبان پر صرف ایک جملہ تھا:
“مجھے ہسپتال
لے چلو… میں مر رہا ہوں…”
مگر شہر اسے سنتا نہیں تھا۔
وہ دیکھتا تھا… اور آگے بڑھ جاتا
تھا۔
اس کا جسم اب جسم نہیں رہا تھا۔
وہ ایک صدا تھا—جو بھیک بن گئی تھی۔
رات نے آخری سانس لی۔
اور اختر کی سانس نے بھی۔
(6)
صبح ہوئی۔
مگر اس بار کوئی گھر واپس نہیں آیا۔
صرف ایک جسم تھا…
جو آزادی کے بعد بھی دنیا تک نہ پہنچ
سکا۔
اور سڑک، خاموش کھڑی رہی… جیسے کچھ
ہوا ہی نہ ہو۔
ـــــــــــــــ
مشکل الفاظ کے معنی:
بیگار: بغیر اجرت جبری مشقت
کراہنا: درد سے آہ بھرنا
ویرانہ: سنسان جگہ
بوسیدہ: پرانا اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار
جلوہ
گر: ظاہر
ہونا / دکھائی دینا
آب
و تاب: شدت اور
چمک کے ساتھ
صدائیں: آوازیں / پکار
ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: